خالد سیف اللہ موتیہاری
انسانی معاشرہ اگر کسی بنیاد پر قائم و دائم رہ سکتا ہے تو وہ بنیاد اخوت، محبت اور بھائی چارہ ہے۔ یہی وہ روحانی سرمایہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، قوموں کو طاقت دیتا ہے، اور امت کو ایک جسم کی مانند بناتا ہے۔ اسلام کا تصورِ معاشرت اسی اصول پر قائم ہے کہ اہلِ ایمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ان کے درمیان رنگ، نسل، زبان اور سرحدوں کے امتیازات نہیں بلکہ ایمان کا رشتہ حاکم ہے جو تمام ظاہری تفریقوں سے بالاتر ہے۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ قوموں کی اصل قوت صرف معاشی وسائل یا عسکری طاقت میں نہیں بلکہ ان کے باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب اخوت اور ایثار کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے تو معاشرے اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اسلام نے اسی خطرے کا علاج اخوتِ ایمانی کے تصور میں پیش کیا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"بے شک مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرو، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے"(سورۃ الحجرات)
یہ آیت ایک مختصر مگر جامع پیغام ہے جو ہر اختلاف، ہر نفرت، ہر تعصب اور ہر دوری کو مٹا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن نے مؤمنین کے تعلق کو صرف دوستی یا تعاون سے تعبیر نہیں کیا بلکہ "اخوت" کا لفظ استعمال کیا۔ اخوت ایسا رشتہ ہے جس میں محبت کے ساتھ ذمہ داری، قربانی اور خیر خواہی بھی شامل ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں جب مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم کیا تو اس نے اسلامی معاشرت کی بنیاد رکھ دی۔ اس بھائی چارے میں نہ صرف محبت اور دل سوزی تھی بلکہ عملاً مال، گھر، کاروبار، اور جذبات تک کو بانٹ دیا گیا۔ ایک مہاجر کو انصار نے اپنا بھائی تسلیم کیا، یہاں تک کہ وہ اسے اپنی جائداد میں شریک کرنے کو تیار تھا۔ یہ وہ جذبہ ہے جس کی ایسی مثال انسانی تاریخ کے بہت کم معاشروں میں ملتی ہے۔ درحقیقت مواخاتِ مدینہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اجتماعی تعمیرِ نو کا ایسا عملی نمونہ تھا جس نے نسل، وطن اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر ایک نئے معاشرتی شعور کو جنم دیا۔
اخوت اور بھائی چارہ محض رسمی مسکراہٹ یا ظاہری ملاقاتوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک داخلی وابستگی ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس میں ایک مسلمان دوسرے کے لیے وہی چاہتا ہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے"(بخاری و مسلم)
اسلام نے جس اخوت کا درس دیا ہے، وہ صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ہے۔ اگر ایک مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں تکلیف میں ہے، تو دوسرا مسلمان اس کے درد کو محسوس کرے، یہی وہ احساس ہے جو ہمیں ایک امت بناتا ہے۔ بدقسمتی سے آج یہ رشتہ کمزور پڑ چکا ہے۔ لسانی، مسلکی، علاقائی، اور سیاسی تعصبات نے ہمیں باہم تقسیم کر دیا ہے۔ ہم نے ملت کو گروہوں میں بانٹ دیا، اور بھائی چارہ کی جگہ حسد، بغض، اور خود غرضی نے لے لی۔
آج امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی طاقتیں نہیں بلکہ اندرونی انتشار ہے۔ فرقہ واریت، لسانی تعصبات، سیاسی کشمکش اور ذاتی مفادات نے مسلمانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ یہی وہ رویے ہیں جو اسلامی اخوت کی روح کے منافی ہیں۔
حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اخوت کو ایمان کی علامت اور امت کی طاقت قرار دیا۔ فرمایا:
"مؤمن مؤمن کا آئینہ ہے اور مؤمن مؤمن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہ کرے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑے" (ابوداؤد)
اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے عیب چھپائیں، غلطیوں پر نرمی سے تنبیہ کریں، مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اور دلوں میں بغض، نفرت، اور بدگمانی نہ پالیں۔ بھائی چارہ وہ پل ہے جو فرد کو فرد سے، گھر کو گھر سے، قوم کو قوم سے جوڑتا ہے۔
ایسے حالات میں اخوتِ اسلامی محض ایک اخلاقی تعلیم نہیں بلکہ امت کی اجتماعی ضرورت بن چکی ہے۔ جب تک مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک ان کے مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔
اخوت اور بھائی چارہ اسلام کا وہ لازوال تحفہ ہے جو صرف مسکراہٹوں اور خوش اخلاقی تک محدود نہیں بلکہ باہمی قربانی، ایثار، اور خلوص کے عملی مظاہر میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اس روح کو اپنی ذاتی، خاندانی، اور معاشرتی زندگی میں بسا لیں تو بہت سی کدورتیں، رنجشیں اور دوریاں ختم ہو سکتی ہیں۔
اخوت کا آغاز عالمی سطح سے پہلے ہمارے اپنے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور مساجد سے ہونا چاہیے۔ جب ہم اپنے روزمرہ معاملات میں رواداری، خیر خواہی اور احترام کو فروغ دیں گے تو معاشرے میں محبت اور اتحاد کی فضا خود بخود پیدا ہوگی۔
مسلمان آج وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ دلوں کی دوری سے کمزور ہوا ہے۔ جب دل جڑ جاتے ہیں تو منتشر قوتیں بھی عظیم کارنامے انجام دیتی ہیں، اور جب دل بکھر جاتے ہیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔
امتوں کا زوال ہمیشہ وسائل کی قلت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب مشترک مقاصد کی جگہ انفرادی مفادات لے لیتے ہیں۔ اخوت درحقیقت اسی اجتماعی شعور کا نام ہے جو افراد کو قوم اور قوم کو امت بنا دیتا ہے۔
آج بھی اگر امت اپنے بکھرے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے میں کامیاب ہو جائے تو اخوت کا یہی جذبہ اس کی فکری، سماجی اور تہذیبی تجدید کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
اخوت دراصل وہ سرمایہ ہے جس کے بغیر امت کا وجود افراد کے ایک منتشر مجموعے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی اخوت کا شعور دے، ہمارے دلوں کو ایک کرے، اور ہمیں ایسی امت بنائے جو ایک جسم، ایک دل، اور ایک آواز ہو، اور محبت، ایثار، اتحاد اور اجتماعی شعور کی عملی مثال بنے۔
-------------------------------------
مزید پڑھیں👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ممتاکی توہین ایک المیہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں